گیارہ محرم الحرام: اسیرانِ اہلِ بیتؑ کا سفرِ اسارت اور مظالمِ کربلا کا دردناک آغاز

حوزہ/گیارہ محرم الحرام 61 ہجری، تاریخِ اسلام کا وہ نہایت غم انگیز دن ہے جب واقعۂ عاشورا کے بعد اہلِ بیتِ رسولؐ پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| گیارہ محرم الحرام 61 ہجری، تاریخِ اسلام کا وہ نہایت غم انگیز دن ہے جب واقعۂ عاشورا کے بعد اہلِ بیتِ رسولؐ پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

دسویں محرم کو حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے باوفا اہلِ بیتؑ و اصحابؑ کی عظیم قربانی کے بعد گیارہ محرم کو لشکرِ عمر بن سعد نے شہدائے کربلا کے اجسادِ مطہر کے ساتھ بے حرمتی کی اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کو اسیر بنا کر کربلا سے کوفہ کی جانب روانہ کیا۔ یہی وہ دن ہے جس سے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی قیادت میں پیغامِ کربلا کی تبلیغ کا عظیم مرحلہ شروع ہوا۔

شہدائے کربلا کے اجسادِ مطہر کے ساتھ بے حرمتی

عاشورا کے بعد عمر بن سعد ملعون گیارہ محرم کو ظہر تک میدانِ کربلا میں ٹھہرا رہا۔ اس نے پہلے اپنے مقتول سپاہیوں کو دفن کرایا، جبکہ حضرت امام حسین علیہ السلام، اہلِ بیتؑ اور دیگر شہدائے کربلا علیہم السلام کے پاکیزہ اجساد کو بے گوروکفن تپتے ہوئے ریگزارِ کربلا پر چھوڑ دیا۔ یہ ظلم و بے حرمتی تاریخِ انسانیت کے المناک ترین واقعات میں شمار ہوتی ہے۔

اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور دیگر شہداء کے مقدس سروں کو تن سے جدا کرکے عبید اللہ بن زیاد کے پاس روانہ کیا جائے۔ تاریخی روایات میں مذکور ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے سرِ اقدس سمیت تقریباً 72 مقدس سروں کو مختلف قبائل میں تقسیم کیا گیا تاکہ وہ انہیں کوفہ لے جائیں۔

بعض تاریخی مصادر کے مطابق ان سروں کی تقسیم اس طرح بیان کی گئی ہے: قبیلۂ کندہ کو 13، قبیلۂ ہوازن کو 12، قبیلۂ تمیم کو 17، قبیلۂ بنی اسد کو 9، قبیلۂ مذحج کو 7 اور دیگر قبائل کو 13 سر دیے گئے۔

اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کا کربلا سے روانہ ہونا

گیارہ محرم کی دوپہر کو اہلِ بیتِ رسولؐ کی خواتین اور بچوں کو اونٹوں پر سوار کرکے کوفہ کی جانب روانہ کیا گیا۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام شدید علالت کے باوجود قیدیوں کے قافلے کے ساتھ روانہ ہوئے۔

جب اسیروں کا قافلہ میدانِ کربلا سے گزرا اور شہدائے کربلا کے بے سر، خون آلود اور پامال اجساد پر نظر پڑی تو اہلِ بیت علیہم السلام پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ہر طرف گریہ و زاری کی کیفیت تھی، لیکن انہی جانکاہ لمحات میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے بے مثال صبر، استقامت اور رضاے الٰہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہلِ بیت علیہم السلام کو حوصلہ دیا۔

روایات میں نقل ہوا ہے کہ آپؑ نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے جسدِ اقدس کی طرف دیکھ کر درد بھرے انداز میں فرمایا: "میں اس پر قربان جاؤں جس کے لشکر کو لوٹ لیا گیا، میں اس پر قربان جاؤں جس کے خیموں کی طنابیں کاٹ دی گئیں، میں اس پر قربان جاؤں جو نہ مسافر ہے کہ واپسی کی امید ہو اور نہ زخمی کہ شفا کی امید ہو، میں اس پر قربان جاؤں جسے پیاسا اور غم زدہ شہید کیا گیا، اور جس کی ریشِ مبارک خون سے تر تھی۔"

پھر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: "اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا هٰذَا الْقُرْبَانَ" (پروردگار! ہماری اس عظیم قربانی کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔)

یہ دعا حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے عظیم صبر، مقامِ رضا اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کی روشن دلیل ہے۔

قافلۂ اسیرانِ اہلِ بیتؑ

تاریخی روایات کے مطابق اسیران کربلا میں اہلِ بیت علیہم السلام کی متعدد باعظمت خواتین اور کم سن بچے شامل تھے۔ ان میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا، حضرت اُمِ کلثوم سلام اللہ علیہا، حضرت فاطمہ بنتِ امیرالمؤمنین سلام اللہ علیہا، حضرت فاطمہ بنتِ امام حسین سلام اللہ علیہا، حضرت سکینہ بنتِ امام حسین سلام اللہ علیہا، حضرت رباب سلام اللہ علیہا، حضرت ام اسحاق سلام اللہ علیہا وغیرہ شامل تھیں۔

ان مقدس ہستیوں کو انتہائی بے حرمتی کے ساتھ قیدی بنا کر کوفہ کی جانب روانہ کیا گیا۔

ابن زیاد کے دربار میں بے ادبی

روایات کے مطابق شہدائے کربلا کے مقدس سروں کو کوفہ میں عبید اللہ بن زیاد ملعون کے دربار میں پیش کیا گیا۔ اس نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے سرِ اقدس کے لبِ مبارک کی چھڑی سے بے ادبی کی۔

یہ منظر دیکھ کر جلیل القدر صحابیٔ رسولؐ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے اختیار بول اٹھے: "اپنی چھڑی حسین علیہ السلام کے لبوں سے ہٹا لو، خدا کی قسم! میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انہی لبوں کا بوسہ لیتے دیکھا ہے۔"

روایات کے مطابق عبید اللہ بن زیاد ان پر غضب ناک ہوا اور سخت الفاظ کہے، جس کے بعد حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روتے ہوئے دربار سے باہر تشریف لے گئے۔

گیارہ محرم صرف اسارت کا آغاز نہیں بلکہ حق کے پیغام کی نئی منزل کا آغاز بھی ہے۔ اگر عاشورا نے راہِ خدا میں جان نچھاور کرنے کا درس دیا تو گیارہ محرم نے ثابت کیا کہ اہلِ بیت علیہم السلام نے اسیری، مصائب اور بے پناہ ظلم کے باوجود حق و حقیقت کی آواز کو خاموش نہیں ہونے دیا۔ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے تاریخی خطبات کے ذریعہ یزیدی ظلم کو بے نقاب کیا اور قیامت تک کے لئے پیغامِ کربلا کو زندہ کر دیا۔

یوں گیارہ محرم الحرام تاریخِ اسلام کا ایک ایسا المناک مگر باعظمت دن ہے جو اہلِ بیتِ رسولؐ کے صبر، استقامت، توکل علی اللہ اور حق کی سربلندی کے لئے دی گئی لازوال قربانی کی ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha